:
Breaking News

Delhi Crime News: دہلی کی سلیپر بس میں نابالغ سے اجتماعی زیادتی کے معاملے میں چارج شیٹ کی تیاری، CCTV اور فرانزک شواہد اہم

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | دہلی کی سلیپر بس میں نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے معاملے میں پولیس نے تفتیش تیز کردی ہے۔ CCTV فوٹیج، موبائل لوکیشن، DNA اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر چارج شیٹ تیار کی جارہی ہے۔

نئی دہلی، 2 ستمبر۔ دہلی پولیس نے گریٹر نوئیڈا سے کشمیری گیٹ کے درمیان چلنے والی ایک سلیپر بس میں نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے معاملے کی تفتیش مزید تیز کردی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے سے متعلق کئی اہم شواہد جمع کیے جاچکے ہیں اور اب مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کو آپس میں ملا کر پورے واقعے کی کڑی جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد جلد ہی عدالت میں چارج شیٹ داخل کی جاسکتی ہے۔

یہ واقعہ اگست کے پہلے ہفتے میں پیش آنے کی بات سامنے آئی ہے۔ معاملے میں بس کے ڈرائیور کلدیپ اور کنڈکٹر سندیپ کو گرفتار کیا جاچکا ہے، جبکہ مبینہ واردات میں استعمال ہونے والی بس کو بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

پولیس اب اس بات کا سراغ لگانے میں مصروف ہے کہ واقعے والی رات بس کس راستے سے گزری، کہاں رکی اور کس وقت کن مقامات پر موجود تھی۔ اس مقصد کے لیے کشمیری گیٹ، تیمارپور پارکنگ، پری چوک اور دیگر مقامات سے حاصل کی گئی CCTV فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

ایک CCTV کیمرے میں بس کو ہنومان مندر فلائی اوور کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ تفتیش کاروں کو امید ہے کہ اس طرح کی ریکارڈنگ سے بس کے سفر کا مکمل راستہ اور اس کی نقل و حرکت کا وقت وار خاکہ تیار کرنے میں مدد ملے گی۔

موبائل لوکیشن سے CCTV کا موازنہ

پولیس صرف CCTV فوٹیج پر انحصار نہیں کررہی بلکہ گرفتار ملزمان میں سے ایک کے موبائل فون سے حاصل ہونے والے لوکیشن ڈیٹا کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔

تحقیقاتی ٹیم موبائل کی لوکیشن اور مختلف مقامات کی CCTV ریکارڈنگ کا موازنہ کرکے یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ بس کس وقت کہاں موجود تھی اور سفر کے دوران ممکنہ طور پر کن مقامات پر رکی تھی۔

تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد سے واقعے کی ٹائم لائن واضح کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور اس سے پولیس کے سامنے پیش آنے والے واقعات کی ترتیب زیادہ واضح ہوجائے گی۔

متاثرہ کا بیان دوبارہ ریکارڈ

پولیس نے متاثرہ نابالغ کا بیان دوبارہ ریکارڈ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق بیان میں یہ بات سامنے آئی کہ بس میں موجود پردے کے ذریعے اس کے ہاتھ اور پاؤں باندھنے کی کوشش کی گئی تھی۔

سلیپر بس میں ہر برتھ کے اطراف پردے لگے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اندر کی سرگرمیاں باہر سے آسانی سے نظر نہیں آتیں۔ پولیس اس پہلو کی بھی جانچ کررہی ہے کہ بس کے اندر نگرانی کے انتظامات کس حد تک مؤثر تھے۔

بس سے ملے فرانزک شواہد

بس کو قبضے میں لینے کے بعد اس کی فرانزک جانچ بھی کرائی گئی۔ پولیس کے مطابق بس کے اندر سے متاثرہ کے بال ملے ہیں۔ اس کے علاوہ سیٹ کور اور بس میں موجود دیگر اشیا کی بھی جانچ کی جارہی ہے تاکہ مزید سائنسی شواہد حاصل کیے جاسکیں۔

متاثرہ کے کپڑے بھی فرانزک سائنس لیبارٹری بھیجے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق کپڑوں پر موجود مبینہ خون اور دیگر حیاتیاتی شواہد کی جانچ کی جارہی ہے۔ ان نمونوں کا ملزمان کے DNA نمونوں سے موازنہ کیا جائے گا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ کے کپڑے، سیٹ کور، CCTV فوٹیج اور موبائل لوکیشن اس معاملے میں اہم شواہد ثابت ہوسکتے ہیں۔

ملزمان کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا

پولیس نے گرفتار دونوں ملزمان کا طبی معائنہ اور پوٹینسی ٹیسٹ بھی کرایا ہے۔ تفتیشی ٹیم کوشش کررہی ہے کہ طبی، سائنسی، ڈیجیٹل اور دیگر دستیاب شواہد کو یکجا کرکے مضبوط کیس تیار کیا جائے۔

بس کمپنی بھی تفتیش کے دائرے میں

تحقیقات کے دوران بس کمپنی کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ بس کمپنی نے ڈرائیور اور کنڈکٹر کی ضروری تصدیق نہیں کرائی تھی۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متعلقہ بس اپریل 2026 میں خریدی گئی تھی اور 28 اپریل کو فیروزآباد میں رجسٹر ہوئی تھی۔ پولیس بس کے کاغذات، اس کے آپریشن اور ملازمین کی تقرری سے متعلق ریکارڈ کی بھی جانچ کررہی ہے۔

بس کے CCTV کیمروں پر بھی سوال

واقعے کے بعد بس میں نصب CCTV کیمروں کی حالت بھی تفتیش کا اہم حصہ بن گئی ہے۔ ٹریول کمپنی کی جانب سے پہلے کہا گیا تھا کہ بس کی مرمت کا کام جاری ہونے کی وجہ سے CCTV کیمرے کام نہیں کررہے تھے۔

اب پولیس یہ معلوم کررہی ہے کہ کیمرے حقیقت میں کس حالت میں تھے اور کیا کسی حصے کی ریکارڈنگ دستیاب ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ بس کے ممکنہ راستے پر موجود دیگر کیمروں کی ریکارڈنگ بھی جمع کی جارہی ہے۔

عوامی ٹرانسپورٹ میں خواتین کی حفاظت پر سوال

اس واقعے نے سلیپر بسوں میں خواتین اور بچوں کی حفاظت سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کردیئے ہیں۔ مسافروں کی رازداری کے لیے برتھ کے گرد پردے لگائے جاتے ہیں، لیکن اگر نگرانی کا مناسب نظام موجود نہ ہو تو یہی پردے سکیورٹی کے لیے مسئلہ بن سکتے ہیں۔

لمبے سفر والی بسوں میں ڈرائیور اور دوسرے عملے کی پولیس تصدیق، CCTV کی باقاعدہ جانچ، ہنگامی شکایت کا نظام اور مسافروں کی حفاظت کے اصولوں پر سختی سے عمل ضروری ہے۔

دہلی کے 2012 کے واقعے کی یاد تازہ

چلتی بس میں نابالغ کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کے اس معاملے نے دہلی میں 2012 کے نربھیا معاملے کی تلخ یادیں بھی تازہ کردی ہیں۔ 16 دسمبر 2012 کو جنوبی دہلی کے وسنت وہار علاقے میں چلتی بس میں ایک نوجوان خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی تھی۔ شدید زخمی ہونے کے بعد اس کی موت ہوگئی تھی۔

اس واقعے کے بعد پورے ملک میں خواتین کی حفاظت، پولیس نظام اور فوجداری قوانین میں تبدیلی کے مطالبات زور پکڑے تھے۔ اس مقدمے میں چار بالغ مجرموں کو 20 مارچ 2020 کو پھانسی دی گئی تھی، جبکہ ایک ملزم کی جیل میں موت ہوگئی تھی اور نابالغ ملزم کو اس وقت نافذ قانون کے تحت اصلاحی مرکز بھیجا گیا تھا۔

موجودہ معاملے میں پولیس کے سامنے سب سے اہم چیلنج یہ ہے کہ تمام سائنسی اور ڈیجیٹل شواہد کو محفوظ رکھتے ہوئے واقعے کی مکمل کڑی عدالت کے سامنے پیش کی جائے۔

جلد داخل ہوسکتی ہے چارج شیٹ

پولیس حکام کے مطابق تفتیش اب آخری مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ CCTV فوٹیج، موبائل لوکیشن، DNA نمونوں، فرانزک جانچ اور متاثرہ کے بیانات کو باہم ملا کر کیس کی تفصیلات مرتب کی جارہی ہیں۔

تفتیشی کارروائی مکمل ہونے کے بعد پولیس جلد عدالت میں چارج شیٹ داخل کرسکتی ہے۔ فی الحال پولیس کی توجہ تمام دستیاب شواہد کی تصدیق اور واقعے سے متعلق ہر پہلو کو قانونی طور پر مضبوط بنانے پر ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ عوامی ٹرانسپورٹ میں خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے صرف قوانین کافی نہیں ہیں۔ عملے کی تصدیق، CCTV کی باقاعدہ نگرانی، شکایت کا فوری نظام اور حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل بھی ضروری ہے۔ خاص طور پر نابالغ مسافروں کے معاملے میں معمولی سی لاپروائی بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *